اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سوشل نٹ ورک کی ویب سائیٹ "فیس بک" کے اپنے صفحے پر ایک بیان میں مسٹر ڈیسکن کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے نتیجے میں گو کہ یہودی آباد کاروں کو قدرے سکون کا سانس لینے کا موقع ملا ہے لیکن اسرائیل کی مجموعی آبادی کے ذہن میں یہ بات یقین کی حد تک موجود ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ ان کی شرائط کے مطابق جنگ بندی گھاٹے کا سودا اور اسرائیل کی شکست کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی فلسطینی شرائط مان کر اسرائیلی حکومت نے خود یہ تسلیم کیا ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس کا موقف درست ہے اور اسرائیلی فوج کا غزہ پٹی پر حملہ ایک بڑی غلطی تھی۔
انہوں نے استفسار کیا کہ جنگ بندی کس چیز پر کی گئی ہے؟ اسرائیلی حکومت نہ تو فلسطینی مقاومت کاروں کو غیرمسلح کرسکی، نہ ان کے راکٹوں کے بارے میں کوئی حد مقرر کرنے کے لیے دباو ڈال سکی اور نہ ہی غزہ کی پٹی میں موجود ان سرنگوں کو تباہ کرنے کا کوئی لائحہ عمل دے سکی جو صہیونی فوجیوں اور حیفا جیسے شہروں تک راکٹ حملوں کا اہم مرکز سمجھی جاتی ہیں۔
یووال ڈیسکن کا کہنا تھا کہ پورے اسرائیل میں یہ تاثر عام ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر فوج کشی کرکے ایک بڑی غلطی کی تھی لیکن اسرائیل حکومت نے جن شرائط کے تحت جنگ بندی کی ہے اس نے شکست پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کہ جنگ بندی کے نتیجے میں فلسطینی مقاومت کاروں کو ایک نیا حوصلہ اور ولولہ ملا ہے جبکہ اسرائیلی فوج کا حوصلہ پست ہوا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲